اسلام سیکھیں

غزوۂ بدر

مدنی دور·غزوہ
غزوة بدر

غزوۂ بدر

📅 13 March 624 CE🗓️ ۱۷ رمضان، ۲ ہجری📍 کنوئیں بدر، مدینہ منورہ کے جنوب مغرب میں، ساحل کے قریب🏜️ میدانفتح

دونوں لشکر

🟢

مسلم فوج

🧭
سپہ سالار
نبی کریم ﷺ
👥
تعداد
تقریباً ۳۱۳ (۲ گھوڑوں اور تقریباً ۷۰ اونٹوں کے ساتھ)
🩹
نقصان
۱۴ شہداء
🔴

مکہ مکرمہ کے قریش

🧭
سپہ سالار
ابو جہل (عمرو ابن ہشام)
👥
تعداد
تقریباً ۱۰۰۰ (تقریباً ۱۰۰ سواروں کے ساتھ)
🩹
نقصان
تقریباً ۷۰ مقتول اور تقریباً ۷۰ قیدی

کیا ہوا

غزوۂ بدر، جو ۱۷ رمضان ۲ ہجری (۱۳ مارچ ۶۲۴ عیسوی) کو لڑا گیا، اسلام کا پہلا بڑا معرکہ تھا۔ تقریباً ۳۱۳ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایک چھوٹے اور محدود سازوسامان والے لشکر نے قریش کی تقریباً تین گنا بڑی فوج کو فیصلہ کن شکست دی۔ دانشمندانہ منصوبہ بندی سے مسلمانوں نے دشمن کی آمد سے پہلے بدر کے کنوئیں پر قبضہ کر لیا اور انہیں پانی سے محروم کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی مدد اور حوصلہ افزائی کے لیے فرشتے بھیجے۔ قریش نے اپنے کئی سرکردہ سرداروں اور رہنماؤں کو کھو دیا، جن میں ان کا سپہ سالار ابو جہل بھی شامل تھا، اور انہیں تباہ کن شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بدر کو قرآنِ کریم میں ہمیشہ کے لیے ''یومُ الفرقان'' (فیصلے کا دن) کے نام سے عزت دی گئی ہے۔

موجود نمایاں صحابہ
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہحضرت عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہحضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہحضرت حمزہ ابن عبدالمطلب رضی اللہ عنہحضرت مصعب ابن عمیر رضی اللہ عنہحضرت سعد ابن معاذ رضی اللہ عنہ

اہم لمحات

  1. 1

    اصل میں قریش کے ایک تجارتی قافلے کو روکنے کے ارادے سے نکلے مسلمانوں کو قریش کی تقریباً ۱۰۰۰ آدمیوں کی مرکزی فوج کا سامنا کرنا پڑا جو قافلے کی حفاظت کے لیے آگے بڑھ آئی تھی۔

  2. 2

    نبی کریم ﷺ انصار کی مشاورت کے بعد قریش کی آمد سے پہلے بدر کے کنوئیں پر قبضہ کر لیتے ہیں اور دشمن کو پانی سے محروم کر دیتے ہیں۔

  3. 3

    جنگ دونوں طرف کے سرکردہ جنگجوؤں کے درمیان مبارزت سے شروع ہوتی ہے؛ حضرت علی، حضرت حمزہ اور حضرت عبیدہ ابن الحارث رضی اللہ عنہم مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

  4. 4

    اللہ تعالیٰ مسلم صفوں کی تقویت کے لیے فرشتے بھیجتا ہے۔ عام جنگ شروع ہوتی ہے اور مسلمان غیر معمولی شجاعت اور ضبط کے ساتھ لڑتے ہیں۔

  5. 5

    اسلام کا کٹر دشمن ابو جہل میدانِ جنگ میں مارا جاتا ہے؛ تقریباً ۷۰ قریشی سردار قتل ہوتے ہیں اور تقریباً ۷۰ گرفتار کیے جاتے ہیں جن میں نامور رہنما بھی شامل ہیں۔

  6. 6

    قریش کی فوج تتر بتر ہو کر بھاگ جاتی ہے۔ ۳۱۳ مسلمانوں کا لشکر فاتحانہ واپس آتا ہے اور قیدیوں کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی ہدایت کے مطابق انسانی سلوک کیا جاتا ہے۔

مرحلہ وار دیکھیں

میدانِ جنگ

Play دبائیں یا ہر مرحلہ خود دیکھیں۔ کسی دستے پر ماؤس لے جائیں تو اس کی پہچان نظر آئے گی۔

💧کنوئیں بدرریت کے ٹیلےریت کے ٹیلے🗡️🐎👑🗡️🐎👑
مسلم فوجمخالف فوج
🏜️ میدان
1

مرحلہ ۱ — کنوؤں پر قبضہ

مسلم لشکر (جنوب) قریش کی فوج (شمال سے آتے ہوئے) کے پہنچنے سے پہلے تیزی سے بدر کے کنوؤں پر قبضے کے لیے آگے بڑھتا ہے۔

قرآن میں

📖سورۃ الانفال ۸:۹

جب تم نے اپنے رب سے مدد مانگی تو اس نے تمہاری فریاد قبول کی: ''میں تمہاری مدد ایک ہزار فرشتوں سے کروں گا جو یکے بعد دیگرے آئیں گے۔''

📖سورۃ آلِ عمران ۳:۱۲۳

اور اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی تھی جب تم بالکل کمزور تھے — پس اللہ سے ڈرو؛ شاید تم شکرگزار ہو۔

💡
سبق

بدر یہ سبق دیتا ہے کہ فتح صرف اللہ کی طرف سے آتی ہے، تعداد یا دنیاوی قوت سے نہیں — ایک کمزور لیکن ایمانی اور متحد لشکر ناقابلِ یقین مشکلات پر قابو پا سکتا ہے۔ یہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ دانشمندانہ منصوبہ بندی، جیسے بدر کے کنوؤں پر قبضہ، اور اللہ پر مکمل توکل مل کر ایسے نتائج دیتے ہیں جو انسانی توقع سے بالاتر ہوتے ہیں۔

یہ کیسے جڑی ہے

📚 مآخذ
  • الرحیق المختوم (مہرِ نبوت)
  • ابن ہشام، السیرۃ النبویہ
  • صحیح البخاری، کتاب المغازی
  • قرآنِ کریم، سورۃ الانفال

اپنا امتحان لیں

جنگ کا کوئز1 / 3

غزوۂ بدر میں مسلم لشکر کتنے آدمیوں پر مشتمل تھا؟