اسلام سیکھیں

فتحِ بیت المقدس

خلافتِ راشدہ·فتح
فتح بيت المقدس

فتحِ بیت المقدس

📅 637–638 CE🗓️ ۱۶–۱۷ ہجری📍 بیت المقدس (یروشلم)، فلسطین🏙️ شہرمعاہدہ

دونوں لشکر

🟢

مسلم فوج

🧭
سپہ سالار
سیدنا ابو عبیدہ بن الجراحؓ؛ سیدنا عمر بن الخطابؓ بنفسِ نفیس شہر کی چابیاں لینے تشریف لائے
👥
تعداد
شام کا مسلمان لشکر
🩹
نقصان
نہ ہونے کے برابر — پُرامن حوالگی
🔴

سلطنتِ بازنطین (مشرقی رومی)

🧭
سپہ سالار
پطریارک صفرونیوس
👥
تعداد
شہر کے محافظ
🩹
نقصان
کوئی نہیں — معاہدے کے ذریعے تسلیم

کیا ہوا

یرموک کی عظیم فتح کے بعد مسلمانوں نے بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا۔ پطریارک صفرونیوس نے شہر کی تسلیم پر آمادگی ظاہر کی لیکن شرط رکھی کہ وہ شہر کی چابیاں صرف خلیفہ کو ہی دیں گے۔ سیدنا عمر بن الخطابؓ نے بڑی عاجزی سے بیت المقدس کا سفر کیا اور عہدنامہ عمر پر دستخط کیے، جس میں عیسائیوں کی جانوں، گرجاگھروں اور مال و اسباب کی حفاظت کی ضمانت دی گئی۔ جب نماز کا وقت آیا تو انہوں نے کلیسائے قیامت کے باہر نماز ادا کرنے کا انتخاب کیا تاکہ کوئی اسے مسجد بنانے کی دلیل نہ بنا سکے — یہ اعلیٰ عدل و رواداری کا ایک ایسا اشارہ تھا جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رہے گا۔ بیت المقدس، مسجدِ اقصیٰ کا شہر، اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔

موجود نمایاں صحابہ
سیدنا عمر بن الخطابؓسیدنا ابو عبیدہ بن الجراحؓسیدنا بلال بن رباحؓ

اہم لمحات

  1. 1

    جنگِ یرموک کے بعد سیدنا ابو عبیدہؓ کی قیادت میں مسلمان لشکر شام میں پیش قدمی کرتا ہے اور بیت المقدس کا محاصرہ کر لیتا ہے۔

  2. 2

    پطریارک صفرونیوس شہر کی تسلیم پر راضی ہو جاتا ہے لیکن اصرار کرتا ہے کہ چابیاں خود مسلمانوں کے خلیفہ کو دی جائیں۔

  3. 3

    خلیفہ سیدنا عمر بن الخطابؓ مدینہ سے بیت المقدس بڑی سادگی سے سفر کرتے ہیں، ایک خادم اور ایک اونٹ کے ساتھ جس پر وہ باری باری سوار ہوتے ہیں۔

  4. 4

    عہدنامہ عمر پر دستخط ہوتے ہیں جو بیت المقدس کے عیسائیوں کی جانوں، گرجاگھروں اور صلیبوں کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے۔

  5. 5

    جب نماز کا وقت آتا ہے تو سیدنا عمرؓ جان بوجھ کر کلیسائے قیامت کے باہر نماز ادا کرتے ہیں تاکہ اسے کبھی مسجد نہ بنایا جا سکے — یہ عدل کا ایک دائمی عمل ہے۔

مرحلہ وار دیکھیں

میدانِ جنگ

Play دبائیں یا ہر مرحلہ خود دیکھیں۔ کسی دستے پر ماؤس لے جائیں تو اس کی پہچان نظر آئے گی۔

🏙️بیت المقدس⛰️بیت المقدس کی پہاڑیاں🏰🗡️🗡️🗡️🗡️
مسلم فوجمخالف فوج
🏙️ شہر
1

مسلمانوں کا بیت المقدس کا محاصرہ

یرموک کے بعد سیدنا ابو عبیدہؓ کی قیادت میں مسلمان لشکر بیت المقدس کا محاصرہ کر لیتا ہے؛ کوئی حملہ نہیں — مذاکرات شروع ہوتے ہیں۔

💡
سبق

فتحِ بیت المقدس سکھاتی ہے کہ حقیقی طاقت صرف فتح میں نہیں بلکہ عدل اور انکساری میں ہے۔ عہدنامہ عمر نے دوسروں کے حقوق اور عبادت گاہوں کی حفاظت کا ایک ابدی معیار قائم کیا، یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ اسلامی حکومت ایمان سے قطع نظر تمام لوگوں کے وقار کا احترام کرتی ہے۔

یہ کیسے جڑی ہے

📚 مآخذ
  • تاریخ الطبری
  • البدایہ والنہایہ از ابن کثیر

اپنا امتحان لیں

جنگ کا کوئز1 / 3

سیدنا عمرؓ نے ذاتی طور پر بیت المقدس کا سفر کیوں کیا؟