اسلام سیکھیں

غزوۂ موتہ

مدنی دور·سریہ
غزوة مؤتة

غزوۂ موتہ

📅 629 CE🗓️ جمادی الاول، ۸ ہجری📍 موتہ، البلقاء (موجودہ اردن) میں، بازنطینی سرحد کے قریب🏜️ میدانغیر فیصلہ کن

دونوں لشکر

🟢

مسلم فوج

🧭
سپہ سالار
حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ، پھر حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، پھر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ، پھر حضرت خالد بن الولید رضی اللہ عنہ
👥
تعداد
تین ہزار
🩹
نقصان
تینوں امراء اور کچھ دیگر صحابہ شہید ہوئے
🔴

بازنطینی (مشرقی رومی) اور ان کے حلیف عیسائی عرب (غسانی) قبائل

🧭
سپہ سالار
بازنطینی اور غسانی سرداران
👥
تعداد
بہت بڑا لشکر
🩹
نقصان
نامعلوم

کیا ہوا

غزوۂ موتہ مسلمانوں اور بازنطینی طاقت کے درمیان پہلا مسلحانہ مقابلہ تھا، جو ایک غسانی حاکم کے ہاتھوں نبی کریم ﷺ کے سفیر کی شہادت کے بعد پیش آیا۔ تین ہزار مسلمان سپاہیوں کا مقابلہ ایک بہت بڑے بازنطینی اور حلیف لشکر سے ہوا۔ تینوں امراء نے یکے بعد دیگرے جھنڈا تھاما اور شہید ہوئے: پہلے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ، پھر حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ — جنہوں نے اس وقت تک لڑتے ہوئے جھنڈا تھامے رکھا جب تک کہ دونوں بازو کٹ نہ گئے، اور انہیں 'ذوالجناحین' (دو پَروں والے) کا لقب ملا — پھر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ۔ پھر حضرت خالد بن الولید رضی اللہ عنہ نے کمان سنبھالی، لشکر کو منظم کیا، اور بے مثال ذہانت سے مسلمان فوج کو محفوظ واپس لے آئے — اور انہیں 'سیف اللہ' یعنی اللہ کی تلوار کا لقب ملا۔

موجود نمایاں صحابہ
حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ — پہلے امیر؛ میدان میں شہید ہوئےحضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ — دوسرے امیر؛ شہید ہوئے؛ 'ذوالجناحین' (دو پروں والے) کے لقب سے مشہورحضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ — تیسرے امیر؛ میدان میں شہید ہوئےحضرت خالد بن الولید رضی اللہ عنہ — چوتھے امیر؛ کامیاب واپسی کی قیادت کی؛ 'سیف اللہ' کا لقب ملا

اہم لمحات

  1. 1

    نبی کریم ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر فرمایا، اور وصیت کی کہ اگر وہ شہید ہوں تو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ، پھر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کمان سنبھالیں۔

  2. 2

    تین ہزار مسلمانوں کا دستہ موتہ کے قریب بازنطینی اور غسانی لشکرِ عظیم سے آمنا سامنا ہوتا ہے۔

  3. 3

    حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ پیش قدمی میں لڑتے ہوئے شہید ہوتے ہیں؛ حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جھنڈا تھام لیتے ہیں۔

  4. 4

    حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اس وقت تک لڑتے ہیں جب تک دونوں بازو کٹ نہیں جاتے، پھر شہید ہوتے ہیں؛ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ جھنڈا لیتے ہیں اور وہ بھی شہید ہو جاتے ہیں۔

  5. 5

    حضرت خالد بن الولید رضی اللہ عنہ کمان سنبھالتے ہیں، مسلمانوں کی صفوں کو دوبارہ منظم کرتے ہیں، اور فوج کو محفوظ پسپائی کرا کے بچا لیتے ہیں۔

  6. 6

    نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ میں تینوں شہدائے امراء کی خبر دیتے ہیں اور حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو 'سیف اللہ' کا لقب عطا فرماتے ہیں۔

مرحلہ وار دیکھیں

میدانِ جنگ

Play دبائیں یا ہر مرحلہ خود دیکھیں۔ کسی دستے پر ماؤس لے جائیں تو اس کی پہچان نظر آئے گی۔

⛰️پہاڑیاں (مسلمانوں کا دایاں پہلو)⛰️پہاڑیاں (مسلمانوں کا بایاں پہلو)🏙️موتہ🐎🗡️🐎🗡️🗡️👑👑🐎🐎🗡️🏹
مسلم فوجمخالف فوج
🏜️ میدان
1

چھوٹا مسلمان دستہ بہت بڑے بازنطینی لشکر کے سامنے

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تین ہزار مسلمان موتہ کے قریب کھلے میدان میں بہت بڑے بازنطینی اور غسانی لشکر کے سامنے آتے ہیں۔

💡
سبق

غزوۂ موتہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اس بے مثال شجاعت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ شہادت کا یقین رکھتے ہوئے بھی جھنڈا تھامنے کے لیے آگے بڑھے۔ یہ واقعہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ دانشمندانہ اور لچکدار قیادت — یہ جاننا کہ کب قائم رہنا ہے اور کب پیچھے ہٹنا ہے — خود ایک فتح ہے۔ میدانِ کارزار کی آشفتگی میں بھی قائم کردہ زنجیرِ قیادت کی اطاعت ہر زمانے کے لیے سبق ہے۔

یہ کیسے جڑی ہے

📚 مآخذ
  • الرحیق المختوم
  • صحیح البخاری، کتاب المغازی
  • ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ

اپنا امتحان لیں

جنگ کا کوئز1 / 3

غزوۂ موتہ میں مسلمان لشکر کے کتنے امراء ہوئے؟