اسلام سیکھیں

غزوۂ تبوک

مدنی دور·غزوہ
غزوة تبوك

غزوۂ تبوک

📅 630 CE🗓️ رجب، ۹ ہجری📍 تبوک، شمال مغرب میں رومی سرحد کی طرف🏜️ صحراغیر فیصلہ کن

دونوں لشکر

🟢

مسلم فوج

🧭
سپہ سالار
نبی کریم ﷺ
👥
تعداد
تقریباً تیس ہزار — جیشُ العُسرہ (تکلیف کا لشکر)
🩹
نقصان
کوئی نہیں؛ کوئی جنگ نہیں ہوئی
🔴

رومی (خطرناک فوجی نقل و حرکت کی خبر)

🧭
سپہ سالار
👥
تعداد
رومی فوج کی افواہ
🩹
نقصان
کوئی نہیں؛ کوئی جنگ نہیں ہوئی

کیا ہوا

شمالی سرحد پر رومی فوجی نقل و حرکت کی خبروں پر نبی کریم ﷺ نے تقریباً تیس ہزار مومنوں کو شدید گرمی میں ایک سخت صحرا کے پار لے کر چلے — جس سے اسے جیشُ العُسرہ (تکلیف کا لشکر) کا نام ملا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی جیب سے لشکر کا بڑا حصہ تیار کیا۔ مسلمان تبوک پہنچے تو کوئی رومی فوج موجود نہ تھی۔ انہوں نے وہاں خیمے ڈالے اور سرحدی سرداروں سے معاہدے کیے۔ اس مہم نے بغیر عذر کے پیچھے رہنے والے منافقوں کو بے نقاب کیا، جبکہ تین مخلص مومنوں نے غلطی سے پیچھے رہ کر سچی توبہ کی جو اللہ نے قبول فرمائی۔

موجود نمایاں صحابہ
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ — مہم کے لیے اپنا تمام مال دے دیاحضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ — اپنا نصف مال دیاحضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ — اپنی جیب سے لشکر کا بڑا حصہ تیار کیا اور بے پناہ تعریف پائیحضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ — تین مخلص مومنوں میں سے ایک جو پیچھے رہ گئے؛ اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی

اہم لمحات

  1. 1

    مدینہ میں خبر پہنچی کہ شمالی سرحد پر ایک بڑی رومی فوج جمع ہو رہی ہے؛ نبی کریم ﷺ نے شدید گرمی میں عام بھرتی کا اعلان فرمایا۔

  2. 2

    حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے ذاتی مال سے لشکر کا بڑا حصہ تیار کیا؛ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنا سارا مال دے دیا، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آدھا۔

  3. 3

    تقریباً تیس ہزار کا لشکر — سفر کی تکلیف کے باعث جیشُ العُسرہ کہلایا — جلتے صحرا کے پار شمال کی طرف روانہ ہوا۔

  4. 4

    تبوک پہنچنے پر مسلمانوں کو کوئی رومی فوج نہ ملی؛ انہوں نے اس علاقے میں خیمے ڈالے اور طاقت کے مظاہرے نے سرحد کو محفوظ کر دیا۔

  5. 5

    نبی کریم ﷺ نے سرحدی سرداروں سے معاہدے کیے؛ اس مہم نے بے سبب پیچھے رہنے والوں کی منافقت کو بے نقاب کر دیا۔

  6. 6

    تین مخلص مومن جو پیچھے رہ گئے تھے — جن میں حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بھی تھے — کو معاشرے نے الگ کر دیا یہاں تک کہ اللہ نے سورۃ التوبہ میں ان کی توبہ قبول ہونے کی خبر نازل فرمائی۔

مرحلہ وار دیکھیں

میدانِ جنگ

Play دبائیں یا ہر مرحلہ خود دیکھیں۔ کسی دستے پر ماؤس لے جائیں تو اس کی پہچان نظر آئے گی۔

عربی صحرا💧تبوک کے کنویں🏙️رومی سرحد👑🐎🐎🗡️🗡️🗡️
مسلم فوجمخالف فوج
🏜️ صحرا
1

عظیم لشکر شمال کی طرف روانہ

تقریباً تیس ہزار مسلمان مدینہ سے روانہ ہوتے ہیں، جلتے صحرا کو عبور کرتے ہوئے تبوک کی طرف شمال کی جانب بڑھتے ہیں۔

قرآن میں

📖قرآن ۹:۱۱۸ (سورۃ التوبہ)

اور ان تین پر بھی جو پیچھے چھوڑ دیے گئے — یہاں تک کہ زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی اور ان کی اپنی جانیں بھی ان پر بوجھل ہو گئیں، اور انہیں یقین ہو گیا کہ اللہ سے کوئی پناہ گاہ نہیں مگر اسی کی طرف۔ پھر اللہ نے انہیں توبہ کی توفیق دینے کے لیے ان کی طرف رجوع فرمایا۔ بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔

💡
سبق

غزوۂ تبوک یہ سکھاتا ہے کہ سچی قربانی تکلیف میں ظاہر ہوتی ہے، صرف جنگ میں نہیں۔ حضرت عثمان، ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہم کی سخاوت مالی جہاد کا نمونہ ہے۔ طاقت کا مظاہرہ ایک تلوار اٹھائے بغیر امن برقرار رکھ سکتا ہے۔ کسی بڑی غلطی کے بعد بھی سچی توبہ اللہ کے ہاں قبول ہوتی ہے۔

یہ کیسے جڑی ہے

📚 مآخذ
  • الرحیق المختوم (مہرِ نبوت)
  • صحیح البخاری، کتاب المغازی
  • قرآن، سورۃ التوبہ (۹:۱۱۸)

اپنا امتحان لیں

جنگ کا کوئز1 / 3

تبوک میں مسلم لشکر کو 'جیشُ العُسرہ' (تکلیف کا لشکر) کیوں کہا گیا؟